Sunday, 22 March 2015

IT IS TRUE STORY BUT NAME AND PLACES HAVE BEEN CHANGED. ASHRAF ASMI ADV..................شبو کی شادی کا المناک انجام۔ ایک مقدمہ ایک کہانی میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کی پیشہ ورانہ زندگی کا سچا واقعہ

 

شبو کی شادی کا المناک انجام۔ ایک مقدمہ ایک کہانی

میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کی پیشہ ورانہ زندگی کا سچا واقعہ

میں ہائی کورٹ بار روم میں بیٹھا چائے پی رہا تھا کہ مجھے میرئے فون پر ایک اجنبی نمبر سے کال موصول ہو ئی دوسری طرف سے کوئی بہت جلدی میں تھا مجھے صرف اتنی بات سمجھ میں آسکی کہ وکیل صاحب ہم آپ کے پاس تین گھنٹے میں پہنچ رہے ہیں۔ فون پربولنے ولا کوئی نوجوان لگتا تھا۔  میں بار روم سے اُٹھ کر اپنے چیمبر آگیا اور ایک کیس کی تیاری میں مصروف ہوگیا کہ تقریباً دو گھنٹے بعد پھر مجھے اُسی نمبر سے کا ل آئی کہ ہمارا  انتظار کیجیے گا ہم جلد ہی پہنچ جائیں گے۔میں نے اپنے کلرک کو اِس فون کال کی بابت بتایا اور خود میں ہائی کورٹ کی لائبریری میں آگیا۔ تقریباً پونے دو گھنٹے کے بعد مجھے میرئے کلرک کا فون آیا کہ ایک لڑکا اور لڑکی آپ سے ملنے آئیں ہیں۔ میرا آفس بالکل ہائی کورٹ کے ساتھ ملحقہ ہے میں آفس پہنچا تو ایک  تقریباً بائیس سال کا نوجوان جس کا رنگ گندمی اور دیکھنے میں کافی ہوشیار لگتا تھا اور چال ڈھال سے کسی غریب خاندان کا فرد دیکھائی دیتا تھا اُس کے ہمراہ ایک لڑکی بھی تھی اتنی حسین لڑکی کہ اللہ پاک نے اُس پر کمال مہربانی کی تھی۔ لڑکی نے  چادراوڑھ رکھی تھی۔ مجھے لڑکے نے بتایا کہ مجھے آپ کی بابت کسی ملنے والے نے بتایا ہے اور اُسی نے آپ کا مکمل پتہ بھی دیا ہے اور  کہنے لگا کہ وکیل صاحب  ہماری مدد کریں۔ میں نے اور شبو نے بھاگ کر شادی کرلی ہے اور نکاح نامہ میرئے پاس ہے شبو کے گھر والوں نے اغوا کا پرچہ درج کروادیا ہے اور میں نے بڑی مشکل سے عبوری ضمانت کروائی ہے۔ شبو کے گھر والے بہت با اثر ہیں اور اُن کی پہنچ بہت اوپر تک ہے وہ مجھے اور شبو کو مروا دیں گے۔میرئے معلوم کرنے پر اُس لڑکے نے مجھے بتایا کہ شبو اُس کے مالک کی بیٹی ہے اور وہ اِ ن کی زمینوں کی نگرانی کاکام کرتا ہے۔بس جی ابھی مجھے اِن کے ہاں ملازم ہوئے چند ماہ ہی ہوئے تھے کہ شبو مجھ سے پیار کرنے لگی۔میں اور شبو بہت پیار کرتے ہیں۔شبو میرئے بغیر مر جاتی وکیل صاحب۔ بس پھر ہم نے بھاگ کر شادی کرلی۔ اب میرئے دو بھائی اور بوڑھا والد شبو کے والد کی قید میں ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ ہائی کورٹ سے میرے خلاف ایف آئی آر کا اخراج ہو جائے اور شبو کو میں لے کر کہیں دور چلا جاؤں۔ میں نے وکالت نامے پر اُس سے دستخط کروائے اور اُس سے عبوری ضمانت کی روبکار وغیرہ کی کاپی و دیگر کاغذات لیے اور اُس کی اگلے دن درخواست دائر کردی۔ اُن کے پاس کچھ بھی نہیں تھا حتی کہ اُس نے رات شبو کے ہمراہ ریلوئے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر جا کر گزاری۔میں نے ہائی کورٹ میں دونوں کو پیش کردیا اور عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے پولیس کو طلب کر لیا۔اب شبو اور نوجوان کسی مسجد میں ٹھرئے ہوئے تھے۔ ابھی  ہائی کورٹ میں دوبارہ کیس لگا نہیں تھا کہ اُس نوجوان جس کا نام ریاض تھا کہ اُس کا مجھے فون آگیا کہ مجھے میرئے گھر سے فون آیا ہے کہ شبو کے والد چوہدری شیر محمد نے کہا  ہے کہ شبو کو گھر پہنچا دیں ہم اُس کی رخصتی کر دیتے ہیں۔اگر شبو گھر نہ پہنچائی تو پھر ریاض کے بھا ئیوں اور والد کی خیر نہیں۔میں نے ریاض کو سمجھایا کہ تم چند دنوں کے لیے ابھی روپوش ہی رہو جب ہائی کورٹ سے ہماری  ایف آئی آر کا اخراج ہو جائے گا تو ہم پھر اگلا لائحہ عمل تیار کریں گے۔لیکن  تین گھنٹے بعد  مجھے پھر فون آگیا کہ اُنھوں نے میرئے بوڑھے والد کو اور بھائیوں کو بہت مارا ہے اور اگر میں نے شبو کو اُن کے گھر واپس کرکے رخصتی والے کام میں رضامندی نہ  دیکھائی تو وہ میرئے باپ اور بھائیوں کو مار دیں گے۔میں نے اُسے سمجھایا اِس طرح تم اپنی اور شبو کی زندگی سے کھیل رہے ہو۔ شبو کے گھر والے چال چل رہے  ہیں وہ تم دونوں کو مار دیں گے۔ لیکن ریاض کچھ ٹھنڈا پڑ چکا تھا ایک تو اُس کے پاس کھانے پینے تک کے لیے کچھ نہ تھا دوسرا ب حالات کی  نزاکت نے اُس کے سر سے عشق کا نشہ ہرن کر دیا تھا لیکن شبو قائم تھی  اُسکا کہنا تھاکہ وہ   ہر گز
ریاض  کا ساتھ نہیں چھوڑئے گی۔بس اُس کے بعد میرا رابطہ ریاض سے کٹ گیا بعد ازاں معلوم ہوا کہ شبو کے والد چوہری شیر محمد نے شبو کو واپس لے کر ریاض کے بھائیوں اور باپ کو چھوڑ دیااور شبو کو اُسی رات قتل کروادیا اور اگلے دن صبح سویرئے جب ریاض بارات لے کر جانے کی تیاریوں میں مصروف تھا کہ چوہدری شیر محمد  کے ملازموں نے ریاض کے گھر دھاوا بول دیا اور ریاض کو کو قتل کر کے خواف ہراس پھیلاتے ہوئے بھاگ گئے۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ سے پتہ چلا کہ ریاض کے جسم پر کوئی بیس گولیاں برسائی گئیں اور اُسے انتہائی بے دردی سے قتل کیا گیا تھا شبو کی لاش کا کچھ پتہ نہ چل سکا۔ یوں گھر سے بھاگ کر شادی کرنے کا المناک انجام ہوا۔ میں نے ہائی کورٹ میں ساری صورتحال بتائی تو پولیس نے چند لوگوں کو گرفتار کر لیا اور اُن کا ٹرائل ہوا اور دو  ملزموں کو شک کا فائدہ دئے کر بری کردیا گیا اور ایک کو سات سال کی قید ہوئی یہ تینوں ملزمان چوہدری کے نمک خوار تھے اور کسی نے بھی ریاض کے حق میں گواہی نہیں دی تھی ایف آئی آر  جو قتل کی درج ہوئی وہ بھی پولیس کی مدعیت میں تھی۔ جب کے چوہدری شیر محمد جو کہ شبو کا باپ ہے وہ اب بھی  زندہ ہے اور اُسے اپنی  بیٹی کی جانب سے لگنے والے داغ نے دل کا مریض بنا دیا ہے۔                                                                                  

No comments:

Post a Comment