Friday, 20 March 2015

بے چین ممتا کی جیت ۔ایک مقدمہ ایک کہانی اشرف عاصمی ایڈووکیٹ کی پیشہ ورانہ زندگی کے سچے واقعات پر مبنی کہانی


 



   بے چین ممتا کی جیت ۔ایک مقدمہ ایک کہانی

اشرف عاصمی ایڈووکیٹ کی پیشہ ورانہ زندگی کے سچے واقعات پر مبنی کہانی

مجھے اُس وقت شدیدجھٹکا لگا جب لاہور ہائی کورٹ سے ملحقہ میرئے لاء چیمبر میں میرئے سامنے میری ایک سابقہ سٹوڈنٹ بیٹھی تھی ۔مجھے جب اُس نے اپنی بپتا سنائی اور کہا کہ آپ کو بڑی مشکل سے ڈھونڈا ہے۔اِس کے ساتھ اِس کے ماں باپ اور بڑی بہن بھی تھی۔ نور کی آنکھوں میں آنسو اور زبان خاموش تھی۔ میرئے دریافت کرنے پر اُس کی بڑی بہن نے بتایا کہ نو ر ابھی ایم بی ائے کے پہلے سمیسٹر میں ہی تھی کہ اپنے والد کے اصرار پر اِس کی شادی چچا کے بیٹے کے ساتھ کردی گئی ۔ نور کا باپ اپنے بھائی کی خواہش کو رد نہیں کرسکتا تھا اور اِس مقصد کے لیے نور کو یونیورسٹی کو خیرباد کہنا پڑا۔یوں اپنے باپ کی خواہش پر ادھوری تعلیم کے ساتھ وہ اپنے سسرال بیاہ کر چلی گئی۔چند ہفتوں کے بعد نور کو اندازہ ہوا کہ اُس کے شوہر کی حرکات و سکنات بہت عجیب وغریب ہیں۔ایک دن وہ اپنی امی کے گھر جانے کے لیے تیار ہو رہی تھی تو اُس کے شوہر نے اُس کو مارنا شروع کردیا کہ تم اپنی ماں کے ہاں نہیں جاؤں گی اُس کی ساس نے بڑی مشکل سے اُسے چھڑایا۔اُس کے شوہر کا استدلال یہ تھا کہ وہ اپنی خالہ کے لڑکے سے ملنے جارہی ہے۔ نور کو اپنے شوہر کی ذہنیت پر بہت افسوس ہوا۔بس پھر کیا تھا۔ اُس کے شوہر نے اُس کی زندگی کو اجیرن بنادیا۔اُسکا شوہر کوئی کام کاج نہیں کرتا تھا۔باپ کا کپڑا کا کاروبار تھا۔اُس کے شوہر کو ذہنی بیماری لاحق تھی اور جب اُس دورہ پڑتا تو وہ نور کو خوب مارتا۔شادی کے سال بعد نور کے ہاں ایک چاند سی بیٹی نے جنم لیا۔ابھی بچی چھ ماہ کی بھی نہ ہو پائی تھی کہ اُس کے شوہر نے اِس پاداش میں کہ وہ اپنی ماں کے گھر کیوں گئی تھی نور کو گھر سے نکال دیا اور شیر خوار بچی کو چھین لیا۔نور اپنے والدین کے گھر آگئی۔علاقے کے کافی لوگوں نے پنچائت وغیرہ کی مدد سے کوشش کی کہ نور اپنے شوہر کے گھر لوٹ جائے۔یا پھر نور کو اُسکی دودھ پیتی بچی ملا دی جائے۔نور کو اپنی بیٹی کی جدائی نے ادھو مُوا رکھ چھوڑا تھا۔اور وہ اپنی بیٹی کے لیے تڑپ رہی تھی۔ نور کے والدین نے کہا کہ ہم خُلہ لینا چاہتے ہیں اور بچی بھی نہیں لینا چاہتے تاکہ وہ نور کی کہیں اور شادی کر سکیں۔ نور کا کہنا تھا کہ بے شک خُلہ لے لیں لیکن بچی میں نے ہر حال میں لینی ہے۔مجھے اِس خاندان کے ساتھ کافی ہمدردی تھی ایک تو نور میری سٹوڈنٹ رہ چکی تھی دوسرا اُس کے والد بہت ملنسار تھے وہ ہمیشہ احترام دیتے تھے۔ میں نے اگلے دن سیشن کورٹ میں شیر خوار بیٹی کو ماں سے جدا کرنے اور ماں کو قتل کی دھمکیاں دینے کے خلاف رٹ دائر کردی۔پولیس نے رپورٹ دی کے متعلقہ شخص نہیں مل رہا۔ ہمار وہ دن اِسی طرح ضائع ہو گیا۔ دود ن کے بعد کی تاریخ ایڈیشنل سیشن جج صاحب نے دی اُس دن میں صبح سویرئے عدالت میں جا کر بیٹھ گیا نور بھی اپنی ماں بہن اور باپ کے ساتھ عدالت میں حاضر تھی لیکن پولیس بچی کو عدالت میں لے کر نہ آئی بلکہ کہا گیا کہ وہ دوسرئے شہر میں ہے دو دن تک آجائے گی۔میں نے جج صاحب سے گزارش کی کہ یہ سب جھوٹ ہے۔جج صاحب نے اگلے دن کی تاریخ دئے دی۔ اگلے دن دوسرئے فریق کی جانب سے ایک باریش نوجوان وکیل صاحب پیش ہوئے اور کہا کہ بچی کو ہم کل پیش کردیں گے۔ ساتھ ہی موصوف نے نور کی کردار کشی کرنی شروع کردی۔میری آنکھیں بھر آئیں اور نور رونے لگ گئی۔ بہر حال جج صاحب نے پھر اگلے دن کی تاریخ دئے دی۔ میرئے بہت زیادہ زور کی وجہ سے مخالف فریق کو یقین ہو چکا تھا کہ وہ ہم لوگ پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔اُسی رات علاقے کے ایم این اے کو وہ نور کے گھر لے کر پہنچ گئے اور کہا کہ آپ کو ہم بچی ابھی دے جاتے ہیں۔مجھے نور کی بڑی بہن نے فون پر ساری تفصیلات سے آگاہ کر دیا۔ میں نے کہا کہ نہیں ہم بچی کو اب عدالت میں ہی لیں گے۔ اِس وجہ سے وہ ڈر گئے بعد میں معلوم ہوا کہ نور کا شوہر کسی صورت اپنی بچی سے جدائی نہیں چاہتا تھا۔میں صبح سویرئے نور کے والدین کے ہاں پہنچا۔ نور کے والد نے بتایا کے میرا بھائی جو کہ نور کا سسر ہے وہ کہتا ہے کہ ہم نور کو اپنے گھر لے جانے کے لیے تیار ہیں۔آپ کیس واپس لے لیں میں نے کہا کہ وہ یہ سب کچھ پنچایت میں آپ کو کہے اور اِس بات کی ضمانت بھی دے کہ نور پر تشدد نہیں ہوگا۔نور نے کہا کہ اُس کا جی تو نہیں چاہتا کہ وہ ایسے شخص کے ساتھ زندگی گزارئے لیکن میرئے سمجھانے پر وہ اپنے سسرال جانے کے لیے تیار ہوگئی۔ یوں وہ گھر آج بھی آباد ہے اور نور اب تین بچوں کی ماں ہے اور اُس کا شوہر پہلے کی نسبت کافی بہتر ہے اور اُس کا علاج ایک نفسیاتی ڈاکٹر سے کروایا گیا۔ یوں ایک گھر اُجرتے اُجرتے بچ گیا بس مجھے صرف یہ کرنا پڑا کہ میں نے چند دن کافی بھاگ دوڑ کی۔ یوں بے چین ممتا جیت گئی۔جب نور اپنے گھر چلی گئی تو میں نے خاص طور پر جا کر متعلقہ جج صاحب کا شکریہ اد اکیا اور اپنے مخالف وکیل صاحب سے بھی ملاقات کی اور اُن کا بھی شکریہ ادا کیا کہ اُن کی جانب سے جس طرح نور کے کردار پر اُنگلیاں اُٹھائی گئیں تھیں اوراِس بات نے میرئے حوصلوں کو مزید جلابخشی اور اللہ پاک اور اُس کے پیارئے نبی پاکﷺ کے کرم سے نور کا گھر بھی بچ گیا اور وہ اپنی بیٹی سے بھی مل گئی۔

No comments:

Post a Comment