Sunday, 5 April 2015

خواب بنے قاتل۔ ایک مقدمہ ایک کہانی امتل کے اپنے خواب اُس کے قاتل۔ اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کی پیشہ ورانہ زندگی کا سچا واقعہ اشرف عاصمی کے ہی قلم سے.IT IS ATRUE STORY OF THE PROFESSIONAL LIFE OF ADVOCATE ASHRAF ASMI, HUMAN RIGHTS ACTIVIST

  TRUE STORY WRITTEN BY ME PUBLISHED IN THE FAMILY MAGIZNE OF NAWI WAQAT GROUP 19TH APRIL 2015.

 

 

 

 

خواب بنے قاتل۔ ایک مقدمہ ایک کہانی

امتل کے اپنے خواب اُس کے قاتل۔ اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کی پیشہ ورانہ زندگی کا سچا واقعہ اشرف عاصمی کے ہی قلم سے

وہ اپنی پہلی ہی ملاقات میں محبت کے نام پر خود کوبرباد کر بیٹھی تھی۔اُس کی شرجیل کے ساتھ ملاقات ایک شادی میں ہوئی تھی اور وہ اُسے اپنے خوابوں کا شھزادہ سمجھ کر اُس کے خیالوں میں ایسی مگن ہوئی کہ پتہ ہی نہ چل سکا کہ اُس کی راہیں اُسے کس جانب لے گئی۔وہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی بیٹی اور دو بھائیوں کی لاڈلی بہن تھی۔جب اُس نے اُسے فون کیا کہ تم لاہور آجاؤ اُُس نے اپنی ماں کو راضی کیا اور لاہور آکر ایک فیکٹری میں ملازمت کرنے لگی اُس نے اُسے کہا تھا کہ وہ ایک بڑے ہسپتال میں ڈاکٹر ہے۔ وہ اُس کی چاہت میں بُری طرح پاگل ہوچکی تھی اُس نے شرجیل کے کہنے پر اُس سے نکاح کر لیا گھر والوں کو پتہ نہ چلنے دیا اور اکثر اپنے ہاسٹل کی بجائے اُس کے ساتھ اُس کے فلیٹ میں رہتی۔شرجیل نے اِس طرح کا اُس پر محبت کا جادو کر دیا تھا کہ وہ خود کو دنیا کی سب سے خوش قسمت عورت خیال کرنے لگی۔ڈیرھ سال شادی کو گزر گیا اب شرجیل کا رویہ بدلنے لگا اور جہاں روزانہ و ہ امتل کو لینے ہاسٹل پہنچ جاتا تھا وہ اب ایک ہفتے بعد آتا۔ کہتا کہ وہ مصروف ہے۔ ایک دن امتل کو ایک کال موصول ہوئی فون کرنے والے نے بس اتنا کہا کہ میں ایک ہمدر انسان ہوں شرجیل جو تمھارا شوہر ہے بہت بڑا دھوکے باز ہے لڑکیوں کی زندگیاں برباد کرتا ہے۔یہ ڈاکٹر نہیں بلکہ کسی فارما کمپنی کے مارکیٹنگ کے شعبے سے وابستہ ہے اور یہ اب تک اسی طرح کی کئی شادیاں رچا چکا ہے۔ امتل کو یہ سب کچھ ڈروانے خواب کی مانند لگا ۔ شرجیل جب اُسے لینے آیا تو اُس نے اُسے کہا کہ تم ڈیڑھ سال سے کہہ رہے ہو کہ تمھیں مناسب وقت میں اپنے والدین سے ملواؤں گا لیکن تم نے ایسا کیوں نہیں کیا۔ شرجیل نے اِدھر اُدھر کی باتیں کرنا شروع کر دیں۔ امتل سمجھ گئی کہ شرجیل نے محبت کے جال میں پھنسا کر اُسے کہیں کا نہیں چھوڑا۔ آہستہ آہستہ شرجیل نے امتل کے ہاسٹل آنا بہت کم کردیا جب بھی امتل نے اپنے لیے اولاد کی خواہش کاا ظہار کیا تو شرجیل ٹال جاتا ابھی وقت نہیں آیا تھوڑا سا صبر کر لو۔ایک دن امتل نے اُسے فون کیا اور کہا کہ وہ اُسے طلاق دئے دئے لیکن شرجیل بات گول کر گیا اور روایتی چکنی چپڑی باتیں کرنے لگا لیکن امتل اب خوابوں کی دنیا سے لوٹ آئی تھی اُسے احساس ہو چکا تھا کہ کس طرح محبت کے جال میں پھانس کر اُسے برباد کیا گیا۔ میں اپنے چمبر میں بیٹھا کیس تیار کر ہا تھا کہ مجھے فون موصول ہوا تعارف کروانے والی نے کہا کہ مجھے کسی فلاحی ادارئے سے آپکا نمبر ملا ہے میں آپ سے ملنا چاہتی ہوں میں نے ملاقات کا وقت طے کیا۔ لیکن وہ ملاقات کے لیے نہ آسکی اُس کا فون آگیا کہ وہ دو دن بعد آئے گی۔ایک دن وہ بن بتلائے میرئے لاء چیمبر ہائی کورٹ پہنچ گئی میں چیمبر میں نہ تھا۔ مجھے اُس کا فون آیا کہ وکیل صاحب میں امتل بات کر رہی ہوں اور آپ کے چیمبر میں بیٹھی ہوں۔میں نے اپنے کام نبٹائے اور چیمبر آگیا۔ ایک قبول صورت لڑکی پینٹ شرٹ پہنے بیٹھی ہوئی ملی اور تعارف کروانے پر وہی امتل تھی۔اُس نے مجھے اپنی ساری رام کہانی سنائی۔ میں نے اُس سے کہا کہ تم اب کیا چاہتی ہو۔ اُس نے کہا وکیل صاحب میں اُس سے جان چھڑانا چاہتی ہوں۔ میرئے گھر والے دوسرئے ضلع میں رہتے ہیں ۔ میں نے اِس دھوکے باز کے لیے اپنے والدین بلکہ ساری دنیا کو دھوکہ دیا لیکن خود سب سے بڑا دھوکہ میرئے ساتھ ہو گیا۔امتل مجھے پھر کسی دن آنے کا کہہ کر چلی گئی۔ چند ماہ کے بعد مجھے ایک فون آیا کہ میں امتل کا خاوند ڈاکٹر شرجیل بول رہا ہوں اُسے سمجھائیں کہ وہ مجھ سے طلاق نہ لے۔ میں نے کہا اچھا میں دیکھتا ہوں۔ ایک دن امتل کا فون پھر آگیا کہ وکیل صاحب میں آپ سے ملنے ابھی آرہی ہوں ۔ میں کورٹ میں تھا۔لیکن امتل نہ آئی۔ دو گھنٹے بعد مجھے اُس کے فون سے ایک کا ل موصول ہوئی کہ آپ امتل کے کیا لگتے ہیں میں نے کہا کہ میں ایک وکیل ہوں اور وہ مجھ سے قانونی معاملات میں رہنمائی کے لیے ایک دو مرتبہ آئی تھی اور آج بھی اُس نے آنا تھا۔فون پر بولنے والے نے مجھے بتایا کہ امتل رکشے میں سوار تھی کہ رکشے والے کی ٹکر ایک ٹرک سے ہو گئی اور امتل کی موت موقع پر ہی ہو گئی۔ کیونکہ آخری بار اُس نے آپ کو کال کی تھی اِس لیے آاپ کو ہی فون کیا گیا ہے۔یہ کہہ کر فون بند ہو گیا۔اور امتل میرئے لیے بہت سے سوال چھوڑ گئی کہ وہ لڑکیاں جو ماں باپ کو دھوکہ دے کر عشق کی خاطر در بدر کی ٹھوکریں کھاتی ہیں اُن کی عقل کو نہ جانے کیا ہوگیا ہوتا ہے۔اپنے ماں باپ کو جیتے جی مار دیتی ہیں اِس طرح کی لڑکیاں۔

Thursday, 2 April 2015

گھر کو آگ گھر کے چراغ سے۔ ایک مقدمہ ایک کہانی میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ کی پیشہ ورانہ زندگی کا سچا واقعہ

 

 

 

 

گھر کو آگ گھر کے چراغ سے۔ ایک مقدمہ ایک کہانی

میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ کی پیشہ ورانہ زندگی کا سچا واقعہ

مجھے جیل سے ایک خط مو صول ہوا جس کے مطابق ایک قتل کے قیدی نے مجھ سے قانونی امداد طلب کی تھی۔میں ایک دن جیل پہنچ گیا اور اُس شخص جسکا نام نظام تھا سے ملا۔ وہ میرا منتظر تھا وہ بغیر رکے بولنے لگ گیا اور اُس نے اپنی روداد چند منٹوں میں ہی سُنا ڈالی۔مجھے افسوس تھا کہ ایک بوڑھا شخص جس کے بال مکمل سفید تھے اور دیکھنے میں وہ کافی بھلا مانس لگتا تھا اُس کی کہانی بہت ہی دُکھ بھری تھی۔ اُس کا کہنا تھا کہ وہ سنگِ مرمر لگانے کا ماہر ہے اور اُس نے مکہ و مدینہ کی پاک فضاؤں میں بھی یہ کام کیا ہے اور اُس نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ عرب ریاستوں میں ہی گزاراہ اُس کے مطابق اُس کی شادی خاندان کی ایک لڑکی سے ہوئی اور وہ شادی کے بعد بھی حصول روزگار کے لیے بیرون ملک ہی محنت مزدوری میں لگا رہا۔ دو سال بعد پاکستان آتا یوں اُس نے اپنا علحیدہ گھر بنالیا تھا اور ب اُس کے ہاں تین بیٹیا ں اور ایک بیٹا پیداہوئے۔ وہ اپنی کہانی سنا رہا تھا کہ اچانک رُکا اور کہنے لگا وکیل صاحب کاش پاکستان کے حکمرانوں نے اِس دھرتی ماں میں ہی ہمارئے گزر بسر کے حالات پیدا کیے ہوتے اور نہ میں باہر رہتا نہ میرا گھر برباد ہوتا ۔اُس کی آنکھوں میں اب آنسو بہہ رہے تھے۔ایک انتہائی بوڑھے شخص کو بلکتے روتے ہوئے دیکھ کر میرا کلیجہ مُنہ کو آرہا تھا۔ پھر وہ گویا ہوا وکیل صاحب میری بیوی جو کہ میری عدم موجودگی میں بد چلنی کا شکار ہو گئی تھی اُس نے میری دو بیٹیوں کو بھی اِسی کام پر لگا دیا اور اب وہ باقاعدہ ایک جسم فرشی کا اڈا چلانے لگ گئی۔ میرابیٹا بھی اپنی ماں کا ہی ہمنوا بن گیا۔میں آج سے ڈیرھ سال پہلے جب دیارِ غیر سے گھر آیا تو مجھے پر یہ حقیقت منکشف ہوئی کہ میری بیوی اور بچیاں جسم فروشی کے مکروہ دھندے میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ میں نے جب اپنی بیوی کو کہا کہ یہ کیا ہے تو اُس نے مجھے گھر سے نکلوادیا اور علاقے کے ایم پی اے کے غنڈوں نے مجھ بوڑھے کو مارا اور میری بیوی نے عدالت سے خلہ یعنی طلاق بھی لے لی۔میں نے اُس کی منت سماجت کی کہ میری بیٹیاں مجھے واپس کردو میں یہاں سے دور چلا جاؤں گا۔ لیکن وہ نہ مانی۔ اب وکیل صاحب میں کیا کرتا۔ میری ساری زندگی کی محنتوں کا ثمر یہ تھا کہ گھر تباہ، اولاد تباہ اور میری بیوی نے جو گُل کھلائے تھے خدا کی پناہ۔ وکیل صاحب علاقے کا تھانیدار اور ایم پی اے اُس کی سرپرستی کرتے تھے۔ جب مجھے اُس نے دھتکار دیا تو میرئے پاس نہ تو سر چھپانے کی جگہ تھی اور نہ ہی بچے میرئے ساتھ تھے۔اپنے رشتے داروں سے مدد کی درخواست کی مجھ نحیف بوڑھے کی کسی نے مدد نہ کی۔ بس وکیل صاحب میرئے آنکھوں میں لہو اُتر آیا۔میری زندگی کا بس ایک مشن بن گیا کہ میں کسی طرح اُس بے وفا اور زمین پر گناہوں کے بوجھ کو صفحہِ ہستی سے مٹادوں۔ اِس مقصد کے لیے میں نے ایک بہت تیز دھار آلہ تیار کروایا اور اپنی میں نے شکل وجہ تبدیل کی اور بھیس بدل کر اپنے ہی گھر میں جو کہ اب فحاشی کا اڈا بن چکا تھا پہنچ گیا میں نے وہاں موجود چوکیدار سے اپنی سابقہ بیوی سے ملنے کا کہا اُس نے سمجھا کہ کوئی موٹا تازہ گاہک ہے وہ مجھے اُس کے پاس لے گیا میں اُس کے پاس اُس کے کمرئے میں بیٹھ گیا اور وہ مجھ سے میرا حال پوچھنے لگی اسی اثناء میں میں نے موقع پا کر اُس حرافہ کو قتل کردیا جب تک شور سن کر لوگ آتے وہ جہنم رسید ہوچکی تھی میری زندگی کا مشن مکمل ہوچکا تھا پولیس آئی مجھے گرفتار کیا میں نے اقرارِ جرم کر لیا میرا کوئی وکیل بھی نہ تھا سرکار نے مجھے وکیل فراہم کیا۔ مجھے سزائے موت کی سنا دی گئی ہے۔ساری کہانی سُننے کے بعد میری دل بھر آیا تھا میرا اپنا جسم ٹھنڈا ہو چکا تھا۔میں نے اُس سے پوچھا کہ نظام اب تم کیا چاہتے ہو؟۔ وہ کہنے لگا وکیل صاحب مجھے اب زندہ نہیں رہنالیکن میں چاہتا ہوں کہ آپ میرا کیس لڑیں تاکہ دنیا کے سامنے حقائق لائے جاسکیں کہ جو لوگ دیارِ غیر میں اپنے پیاروں کے لیے دھکے کھاتے ہیں اُن پیاروں کی جانب سے بے وفائی کسی صورت پھر برداشت نہیں ہوتی ۔ میرئے لیے کتنا صدمہ ہے کہ میری بیٹیاں اور بیوی فحاشی کے اڈئے کو چلانے لگیں اور میرا بیٹا بھی اُسی رنگ میں رنگ گیا ۔ وکیل صاحب لوگوں کو بتائیں کہ اپنے ملک میں سوکھی روٹی کھالیں باہر مت جائیں۔یا پھر شادی کے بعد نہ جائیں یا اپنی فیملی کو ساتھ لے کر جائیں۔میں نے اُس سے وکالت نامے پر دستخط کروائے اور جیل حکام سے مل کر واپس آگیا اور سوچ رہا تھاکہ لوگ روپے پیسے کے لیے اپنا گھر بار چھوڑ کر سات سمندر پار چلے جاتے ہیں اور پیچھے سے اُن کے بیوی بچے اور ڈگر پر چل نکلتے ہیں اور ایسی راہ پر چل پڑتے ہیں جہاں سے واپسی ممکن نہیں رہتی ۔

Sunday, 22 March 2015

IT IS TRUE STORY BUT NAME AND PLACES HAVE BEEN CHANGED. ASHRAF ASMI ADV..................شبو کی شادی کا المناک انجام۔ ایک مقدمہ ایک کہانی میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کی پیشہ ورانہ زندگی کا سچا واقعہ

 

شبو کی شادی کا المناک انجام۔ ایک مقدمہ ایک کہانی

میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کی پیشہ ورانہ زندگی کا سچا واقعہ

میں ہائی کورٹ بار روم میں بیٹھا چائے پی رہا تھا کہ مجھے میرئے فون پر ایک اجنبی نمبر سے کال موصول ہو ئی دوسری طرف سے کوئی بہت جلدی میں تھا مجھے صرف اتنی بات سمجھ میں آسکی کہ وکیل صاحب ہم آپ کے پاس تین گھنٹے میں پہنچ رہے ہیں۔ فون پربولنے ولا کوئی نوجوان لگتا تھا۔  میں بار روم سے اُٹھ کر اپنے چیمبر آگیا اور ایک کیس کی تیاری میں مصروف ہوگیا کہ تقریباً دو گھنٹے بعد پھر مجھے اُسی نمبر سے کا ل آئی کہ ہمارا  انتظار کیجیے گا ہم جلد ہی پہنچ جائیں گے۔میں نے اپنے کلرک کو اِس فون کال کی بابت بتایا اور خود میں ہائی کورٹ کی لائبریری میں آگیا۔ تقریباً پونے دو گھنٹے کے بعد مجھے میرئے کلرک کا فون آیا کہ ایک لڑکا اور لڑکی آپ سے ملنے آئیں ہیں۔ میرا آفس بالکل ہائی کورٹ کے ساتھ ملحقہ ہے میں آفس پہنچا تو ایک  تقریباً بائیس سال کا نوجوان جس کا رنگ گندمی اور دیکھنے میں کافی ہوشیار لگتا تھا اور چال ڈھال سے کسی غریب خاندان کا فرد دیکھائی دیتا تھا اُس کے ہمراہ ایک لڑکی بھی تھی اتنی حسین لڑکی کہ اللہ پاک نے اُس پر کمال مہربانی کی تھی۔ لڑکی نے  چادراوڑھ رکھی تھی۔ مجھے لڑکے نے بتایا کہ مجھے آپ کی بابت کسی ملنے والے نے بتایا ہے اور اُسی نے آپ کا مکمل پتہ بھی دیا ہے اور  کہنے لگا کہ وکیل صاحب  ہماری مدد کریں۔ میں نے اور شبو نے بھاگ کر شادی کرلی ہے اور نکاح نامہ میرئے پاس ہے شبو کے گھر والوں نے اغوا کا پرچہ درج کروادیا ہے اور میں نے بڑی مشکل سے عبوری ضمانت کروائی ہے۔ شبو کے گھر والے بہت با اثر ہیں اور اُن کی پہنچ بہت اوپر تک ہے وہ مجھے اور شبو کو مروا دیں گے۔میرئے معلوم کرنے پر اُس لڑکے نے مجھے بتایا کہ شبو اُس کے مالک کی بیٹی ہے اور وہ اِ ن کی زمینوں کی نگرانی کاکام کرتا ہے۔بس جی ابھی مجھے اِن کے ہاں ملازم ہوئے چند ماہ ہی ہوئے تھے کہ شبو مجھ سے پیار کرنے لگی۔میں اور شبو بہت پیار کرتے ہیں۔شبو میرئے بغیر مر جاتی وکیل صاحب۔ بس پھر ہم نے بھاگ کر شادی کرلی۔ اب میرئے دو بھائی اور بوڑھا والد شبو کے والد کی قید میں ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ ہائی کورٹ سے میرے خلاف ایف آئی آر کا اخراج ہو جائے اور شبو کو میں لے کر کہیں دور چلا جاؤں۔ میں نے وکالت نامے پر اُس سے دستخط کروائے اور اُس سے عبوری ضمانت کی روبکار وغیرہ کی کاپی و دیگر کاغذات لیے اور اُس کی اگلے دن درخواست دائر کردی۔ اُن کے پاس کچھ بھی نہیں تھا حتی کہ اُس نے رات شبو کے ہمراہ ریلوئے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر جا کر گزاری۔میں نے ہائی کورٹ میں دونوں کو پیش کردیا اور عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے پولیس کو طلب کر لیا۔اب شبو اور نوجوان کسی مسجد میں ٹھرئے ہوئے تھے۔ ابھی  ہائی کورٹ میں دوبارہ کیس لگا نہیں تھا کہ اُس نوجوان جس کا نام ریاض تھا کہ اُس کا مجھے فون آگیا کہ مجھے میرئے گھر سے فون آیا ہے کہ شبو کے والد چوہدری شیر محمد نے کہا  ہے کہ شبو کو گھر پہنچا دیں ہم اُس کی رخصتی کر دیتے ہیں۔اگر شبو گھر نہ پہنچائی تو پھر ریاض کے بھا ئیوں اور والد کی خیر نہیں۔میں نے ریاض کو سمجھایا کہ تم چند دنوں کے لیے ابھی روپوش ہی رہو جب ہائی کورٹ سے ہماری  ایف آئی آر کا اخراج ہو جائے گا تو ہم پھر اگلا لائحہ عمل تیار کریں گے۔لیکن  تین گھنٹے بعد  مجھے پھر فون آگیا کہ اُنھوں نے میرئے بوڑھے والد کو اور بھائیوں کو بہت مارا ہے اور اگر میں نے شبو کو اُن کے گھر واپس کرکے رخصتی والے کام میں رضامندی نہ  دیکھائی تو وہ میرئے باپ اور بھائیوں کو مار دیں گے۔میں نے اُسے سمجھایا اِس طرح تم اپنی اور شبو کی زندگی سے کھیل رہے ہو۔ شبو کے گھر والے چال چل رہے  ہیں وہ تم دونوں کو مار دیں گے۔ لیکن ریاض کچھ ٹھنڈا پڑ چکا تھا ایک تو اُس کے پاس کھانے پینے تک کے لیے کچھ نہ تھا دوسرا ب حالات کی  نزاکت نے اُس کے سر سے عشق کا نشہ ہرن کر دیا تھا لیکن شبو قائم تھی  اُسکا کہنا تھاکہ وہ   ہر گز
ریاض  کا ساتھ نہیں چھوڑئے گی۔بس اُس کے بعد میرا رابطہ ریاض سے کٹ گیا بعد ازاں معلوم ہوا کہ شبو کے والد چوہری شیر محمد نے شبو کو واپس لے کر ریاض کے بھائیوں اور باپ کو چھوڑ دیااور شبو کو اُسی رات قتل کروادیا اور اگلے دن صبح سویرئے جب ریاض بارات لے کر جانے کی تیاریوں میں مصروف تھا کہ چوہدری شیر محمد  کے ملازموں نے ریاض کے گھر دھاوا بول دیا اور ریاض کو کو قتل کر کے خواف ہراس پھیلاتے ہوئے بھاگ گئے۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ سے پتہ چلا کہ ریاض کے جسم پر کوئی بیس گولیاں برسائی گئیں اور اُسے انتہائی بے دردی سے قتل کیا گیا تھا شبو کی لاش کا کچھ پتہ نہ چل سکا۔ یوں گھر سے بھاگ کر شادی کرنے کا المناک انجام ہوا۔ میں نے ہائی کورٹ میں ساری صورتحال بتائی تو پولیس نے چند لوگوں کو گرفتار کر لیا اور اُن کا ٹرائل ہوا اور دو  ملزموں کو شک کا فائدہ دئے کر بری کردیا گیا اور ایک کو سات سال کی قید ہوئی یہ تینوں ملزمان چوہدری کے نمک خوار تھے اور کسی نے بھی ریاض کے حق میں گواہی نہیں دی تھی ایف آئی آر  جو قتل کی درج ہوئی وہ بھی پولیس کی مدعیت میں تھی۔ جب کے چوہدری شیر محمد جو کہ شبو کا باپ ہے وہ اب بھی  زندہ ہے اور اُسے اپنی  بیٹی کی جانب سے لگنے والے داغ نے دل کا مریض بنا دیا ہے۔                                                                                  

Friday, 20 March 2015

بے چین ممتا کی جیت ۔ایک مقدمہ ایک کہانی اشرف عاصمی ایڈووکیٹ کی پیشہ ورانہ زندگی کے سچے واقعات پر مبنی کہانی


 



   بے چین ممتا کی جیت ۔ایک مقدمہ ایک کہانی

اشرف عاصمی ایڈووکیٹ کی پیشہ ورانہ زندگی کے سچے واقعات پر مبنی کہانی

مجھے اُس وقت شدیدجھٹکا لگا جب لاہور ہائی کورٹ سے ملحقہ میرئے لاء چیمبر میں میرئے سامنے میری ایک سابقہ سٹوڈنٹ بیٹھی تھی ۔مجھے جب اُس نے اپنی بپتا سنائی اور کہا کہ آپ کو بڑی مشکل سے ڈھونڈا ہے۔اِس کے ساتھ اِس کے ماں باپ اور بڑی بہن بھی تھی۔ نور کی آنکھوں میں آنسو اور زبان خاموش تھی۔ میرئے دریافت کرنے پر اُس کی بڑی بہن نے بتایا کہ نو ر ابھی ایم بی ائے کے پہلے سمیسٹر میں ہی تھی کہ اپنے والد کے اصرار پر اِس کی شادی چچا کے بیٹے کے ساتھ کردی گئی ۔ نور کا باپ اپنے بھائی کی خواہش کو رد نہیں کرسکتا تھا اور اِس مقصد کے لیے نور کو یونیورسٹی کو خیرباد کہنا پڑا۔یوں اپنے باپ کی خواہش پر ادھوری تعلیم کے ساتھ وہ اپنے سسرال بیاہ کر چلی گئی۔چند ہفتوں کے بعد نور کو اندازہ ہوا کہ اُس کے شوہر کی حرکات و سکنات بہت عجیب وغریب ہیں۔ایک دن وہ اپنی امی کے گھر جانے کے لیے تیار ہو رہی تھی تو اُس کے شوہر نے اُس کو مارنا شروع کردیا کہ تم اپنی ماں کے ہاں نہیں جاؤں گی اُس کی ساس نے بڑی مشکل سے اُسے چھڑایا۔اُس کے شوہر کا استدلال یہ تھا کہ وہ اپنی خالہ کے لڑکے سے ملنے جارہی ہے۔ نور کو اپنے شوہر کی ذہنیت پر بہت افسوس ہوا۔بس پھر کیا تھا۔ اُس کے شوہر نے اُس کی زندگی کو اجیرن بنادیا۔اُسکا شوہر کوئی کام کاج نہیں کرتا تھا۔باپ کا کپڑا کا کاروبار تھا۔اُس کے شوہر کو ذہنی بیماری لاحق تھی اور جب اُس دورہ پڑتا تو وہ نور کو خوب مارتا۔شادی کے سال بعد نور کے ہاں ایک چاند سی بیٹی نے جنم لیا۔ابھی بچی چھ ماہ کی بھی نہ ہو پائی تھی کہ اُس کے شوہر نے اِس پاداش میں کہ وہ اپنی ماں کے گھر کیوں گئی تھی نور کو گھر سے نکال دیا اور شیر خوار بچی کو چھین لیا۔نور اپنے والدین کے گھر آگئی۔علاقے کے کافی لوگوں نے پنچائت وغیرہ کی مدد سے کوشش کی کہ نور اپنے شوہر کے گھر لوٹ جائے۔یا پھر نور کو اُسکی دودھ پیتی بچی ملا دی جائے۔نور کو اپنی بیٹی کی جدائی نے ادھو مُوا رکھ چھوڑا تھا۔اور وہ اپنی بیٹی کے لیے تڑپ رہی تھی۔ نور کے والدین نے کہا کہ ہم خُلہ لینا چاہتے ہیں اور بچی بھی نہیں لینا چاہتے تاکہ وہ نور کی کہیں اور شادی کر سکیں۔ نور کا کہنا تھا کہ بے شک خُلہ لے لیں لیکن بچی میں نے ہر حال میں لینی ہے۔مجھے اِس خاندان کے ساتھ کافی ہمدردی تھی ایک تو نور میری سٹوڈنٹ رہ چکی تھی دوسرا اُس کے والد بہت ملنسار تھے وہ ہمیشہ احترام دیتے تھے۔ میں نے اگلے دن سیشن کورٹ میں شیر خوار بیٹی کو ماں سے جدا کرنے اور ماں کو قتل کی دھمکیاں دینے کے خلاف رٹ دائر کردی۔پولیس نے رپورٹ دی کے متعلقہ شخص نہیں مل رہا۔ ہمار وہ دن اِسی طرح ضائع ہو گیا۔ دود ن کے بعد کی تاریخ ایڈیشنل سیشن جج صاحب نے دی اُس دن میں صبح سویرئے عدالت میں جا کر بیٹھ گیا نور بھی اپنی ماں بہن اور باپ کے ساتھ عدالت میں حاضر تھی لیکن پولیس بچی کو عدالت میں لے کر نہ آئی بلکہ کہا گیا کہ وہ دوسرئے شہر میں ہے دو دن تک آجائے گی۔میں نے جج صاحب سے گزارش کی کہ یہ سب جھوٹ ہے۔جج صاحب نے اگلے دن کی تاریخ دئے دی۔ اگلے دن دوسرئے فریق کی جانب سے ایک باریش نوجوان وکیل صاحب پیش ہوئے اور کہا کہ بچی کو ہم کل پیش کردیں گے۔ ساتھ ہی موصوف نے نور کی کردار کشی کرنی شروع کردی۔میری آنکھیں بھر آئیں اور نور رونے لگ گئی۔ بہر حال جج صاحب نے پھر اگلے دن کی تاریخ دئے دی۔ میرئے بہت زیادہ زور کی وجہ سے مخالف فریق کو یقین ہو چکا تھا کہ وہ ہم لوگ پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔اُسی رات علاقے کے ایم این اے کو وہ نور کے گھر لے کر پہنچ گئے اور کہا کہ آپ کو ہم بچی ابھی دے جاتے ہیں۔مجھے نور کی بڑی بہن نے فون پر ساری تفصیلات سے آگاہ کر دیا۔ میں نے کہا کہ نہیں ہم بچی کو اب عدالت میں ہی لیں گے۔ اِس وجہ سے وہ ڈر گئے بعد میں معلوم ہوا کہ نور کا شوہر کسی صورت اپنی بچی سے جدائی نہیں چاہتا تھا۔میں صبح سویرئے نور کے والدین کے ہاں پہنچا۔ نور کے والد نے بتایا کے میرا بھائی جو کہ نور کا سسر ہے وہ کہتا ہے کہ ہم نور کو اپنے گھر لے جانے کے لیے تیار ہیں۔آپ کیس واپس لے لیں میں نے کہا کہ وہ یہ سب کچھ پنچایت میں آپ کو کہے اور اِس بات کی ضمانت بھی دے کہ نور پر تشدد نہیں ہوگا۔نور نے کہا کہ اُس کا جی تو نہیں چاہتا کہ وہ ایسے شخص کے ساتھ زندگی گزارئے لیکن میرئے سمجھانے پر وہ اپنے سسرال جانے کے لیے تیار ہوگئی۔ یوں وہ گھر آج بھی آباد ہے اور نور اب تین بچوں کی ماں ہے اور اُس کا شوہر پہلے کی نسبت کافی بہتر ہے اور اُس کا علاج ایک نفسیاتی ڈاکٹر سے کروایا گیا۔ یوں ایک گھر اُجرتے اُجرتے بچ گیا بس مجھے صرف یہ کرنا پڑا کہ میں نے چند دن کافی بھاگ دوڑ کی۔ یوں بے چین ممتا جیت گئی۔جب نور اپنے گھر چلی گئی تو میں نے خاص طور پر جا کر متعلقہ جج صاحب کا شکریہ اد اکیا اور اپنے مخالف وکیل صاحب سے بھی ملاقات کی اور اُن کا بھی شکریہ ادا کیا کہ اُن کی جانب سے جس طرح نور کے کردار پر اُنگلیاں اُٹھائی گئیں تھیں اوراِس بات نے میرئے حوصلوں کو مزید جلابخشی اور اللہ پاک اور اُس کے پیارئے نبی پاکﷺ کے کرم سے نور کا گھر بھی بچ گیا اور وہ اپنی بیٹی سے بھی مل گئی۔

Thursday, 19 March 2015

حواکی بیٹی۔ ایک مقدمہ ایک کہانی اشر ف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کی پیشہ ورانہ زندگی کا سچا واقعہ

 

 

 

حواکی بیٹی۔ ایک مقدمہ ایک کہانی

اشر ف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کی پیشہ ورانہ زندگی کا سچا واقعہ
جب میں جیل کی سلاخوں کے کے پیچھے کھڑی حوا کی بیٹی سے اُس پر گزرنے والے واقعات سن رہا تھا تو مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ معاشرئے کی بے رحمی کا سلسلہ یہاں تک پہنچ چکا ہے۔اُس نے بتایا کہ اُس کا خاوند نشہ کرتا تھا اور وہ شادی کے پہلے دن سے ہی ایک پیسہ بھی کما کر نہیں لایا۔ اِس لیے جب بھی وہ گھر کے اخراجات کے لیے اُس سے رقم کا تقاضا کرتی تو وہ اُسے مارنا پیٹنا شروع کر دیتا۔ وقت گزرتا گیا دن مہینوں میں اور مہینے سالوں میں گزرتے گئے۔زرتاشہ نے خود محنت مزدور ی شروع کردی تھی وہ ایک فیکٹری میں نوکری کرنے لگی تھی یوں صبح ناشتے کے بعد جاتی اور شام گئے فیکٹری کی بس اُسے مین سڑک پر اُتارتی اور وہ وہاں سے پیدل پندرہ منٹ کا راستہ چلتی گھر پہنچتی۔ اِسی اثناء میں وہ تین بیٹیوں کی ماں بن چکی تھی لیکن اکبر تھا کہ ہر وقت نشے کے لیے بے چین رہتا۔ بری بیٹی جب ساتویں جماعت میں پہنچی تو زرتاشہ کے بالوں میں چاندنی نے جگہ لے لی تھی۔نوکری اور گھر کے تفکرات نے اُسے ایسے بنا ڈالا تھا کہ جیسے وہ برسوں سے بیمار ہو۔ بات بھی کچھ ایسی ہی تھی جب پیدا ہوئی تو ماں باپ دنیا سے جلد اُٹھ گئے۔ دو بھائی تھے اُنھوں نے تھوڑا بہت پڑھایا اور 19 سال کی عمر میں ہی اُسے بیا دیا اور پھر مڑ کر خبر نہ لی۔زرتاشہ کی قسمت ہی کچھ ایسی ٹھنڈی تھی کہ شائد کاتب تقدیر نے ادھوری لکھی تھی بڑی بیٹی کو جوان ہوتے دیکھ کر زرتاشہ کی راتوں کی نیند اُڑ چکی تھی۔جب زرتاشہ مجھے اپنی کہانی سنا رہی تھی تو مجھے ایسے لگ رہا تھا کہ میں کہیں دور جنگل و بیاباں کا باسی ہوں جہاں انسانیت کی قدر جانوروں سے بھی کم ہے۔ مجھے یہ جان کر شدید جھٹکا لگا جب زرتاشہ نے کہا کہ وکیل صاحب ایک رات اُس کا خاوند ایک اوباش کو گھر لے آیا دونوں نے شراب پی رکھی تھی اُس اوباش نے نشے کی حالت میں میری کلائی پکڑ لی میری تینوں بیٹیاں ڈر کے مارئے رونے لگ گئی لیکن اکبر ایسا بے غیرت تھا کہ وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔ میں نے شور مچایا لیکن کوئی محلے دار میری مدد کو نہ آیا کیونکہ سب لوگ عادی ہوچکے تھے کہ اکبر کا کام ہی یہ ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں اور بیوی کو مارتا پیٹتا رہتا ہے۔بس وکیل صاحب اُس دن اپنی بیٹیوں اور نامراد خاوند کے سامنے مجھے اُس اوباش نے اپنی ہوس کا نشانہ بنا ڈالا شائد قدرت کوبھی یہ ظلم دیکھ کر ترس آگیا کہ میں نے صبح سویرئے جس کمرئے میں اکبر اور وہ اوباش سو رہے تھے کہ وہاں تیل چھڑک کر آگ لگا دی ۔ دونوں شراب کے نشے کی حالت میں تھے اِس لیے سیدھا جہنم رسید ہو گئے۔ آگ کے کے شعلے جب بلند ہوئے تو علاقے کے لوگ اُمڈ آئے پویس اور فائر برگیڈ والے پہنچے۔ پولیس نے زرتاشہ کو گرفتار کرلیا۔مقدمہ چلا چونکہ پیروی کرنے والا کوئی نہ تھا زرتاشہ کو ٹرائل کورٹ نے عمر قید سنا دی۔زرتاشہ کے بھائیوں نے پھر بھی اُس کی خبر نہ لی۔اُس کی بیٹیوں کو یتم خانے پہنچا دیا گیا۔ جب زرتاشتہ اپنی ساری درد بھری داستان سنا چکی تو میں نے بوجھل دل کے ساتھ اُس سے وکالت نامے پر دستخط کروائے اور جیل کے اہل کار سے اُس پر مہر لگائی اور واپس اپنے چیمبر آگیا۔لاہور ہائی کورٹ میں اُس کو دی جانے والی سزا کے خلاف اپیل دائر کردی ۔عدالت نے چند تاریخوں کے بعد ہی زرتاشہ کی اپیل منظور کرلی اور اُسے رہائی کا پروانہ مل گیا۔یوں مردوں کے معاشرئے میں مردوں کے ہاتھوں برباد ہونے والی زرتاشہ تین سال جیل میں گزارنے کے بعد رہا ہوگئی اب معاملہ اِس بدنصیب خاندان کی بحالی کا تھا۔ میری اپیل پر چند احباب نے اُن کی اپنے گھر واپسی کو ممکن بنایا اور وہ اپنی بیٹوں کے ساتھ واپس گھر لوٹ گئی اور گھر میں اپنی بڑی بیٹی کے ساتھ کپرئے سینے کا کام کرنے لگی یوں حوا کی بیٹی کے اوپر ہونے والے اُس کے اپنے ہی مرد کے سامنے ظلم نے اِس خاندان کو ایک ایسے کرب میں مبتلا کردیا تھا کہ جب تک زرتاشہ اور اُسکی بیٹیاں زندہ ہیں یہ دکھ اُن کو ڈستا رہے گا۔

سہاگ کی موت۔ ایک مقدمہ ایک کہانی اشرف عاصمی ایڈووکیٹ کی پیشہ ورانہ زندگی کا سچا واقعہ




 
it is a true story but names, places have been changed

سہاگ کی موت۔ ایک مقدمہ ایک کہانی

اشرف عاصمی ایڈووکیٹ کی پیشہ ورانہ زندگی کا سچا واقعہ

وہ پانچ بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی باپ بھی سرکاری محکمے میں سفید پوش نوکری پر مامور تھا۔ گھر میں رزق کی کمی نہ تھی۔اکلوتی بیٹی ہونے کی وجہ سے اپنی ماں باپ کی آنکھوں کا تارا اور اپنے بھا ئیوں کی گویا جان تھی۔ تمام بھائی پڑھ لکھ کر اچھی ملازمت پر مامور تھے جب اُسکی شادی کی بات ہوئی تو کئی رشتے آئے لیکن باپ نے اپنے دور کے ایک عزیز دوست ،احمد بخش کے بیٹے کے ساتھ صادقہ کی نسبت طے کر دی۔ احمد بخش کا علاقہ میں خوب رعب دبدبہ تھا اور لوگ اُس کی بہت عزت کرتے تھے ۔ اسلم اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔ ماں اِسکے بچپن میں ہی چل بسی تھی باپ اچھا خاصا زمیندار اور دل کا سخی تھا اِس لیے گاؤں میں کسی کو بھی کوئی پریشانی ہوتی تو اُسکا ازالہ چوہدری احمد بخش کی حویلی سے ہی ہوتا۔چوہدری احمد بخش خوب صدقہ خیرات کرتا ۔ لیکن اِس کے ساتھ ساتھ اسلم لاڈ پیار سے اکھڑ مزاج بنتا چلاگیا۔صادقہ جب بیاہ کر اسلم کی حویلی میں آئی تو اُس کی خوب خاطر مدارت ہوئی آخر چوہدری احمد بخش کے اکلوتے بیٹے کی وہ بیوی جو تھی۔ جب صادقہ کے ہاں پہلی بیٹی کی ولادت ہوئی تو چوہدری احمد بخش نے پورئے گاؤں میں خوب خیرات کی ۔اسلم اکثر اپنے دوستوں کے ساتھ گھومتا پھرتا رہتا لیکن خاندانی ادب و احترام کے باعث صادقہ نے کبھی اپنی زبان سے اُف تک نہ کی ۔ابھی صادقہ کی بیٹی کی عمر دو سال ہی تھی کہ اللہ پاک نے اِسے ایک اور بیٹی سے نوازا۔چوہدری احمد بخش ایک دین دار انسان تھا اُس کی خواہش تو تھی کہ اُس کے آنگن میں اُس کا وارث قدم رکھے لیکن وہ اللہ پاک کا شکر بجا لایا۔ لیکن اسلم کا رویہ کافی خراب تھا۔ صادقہ کو بہت دکھ ہوا کہ اسلم کی سوچ کتنی سطحی ہے۔ لیکن وہ فرماں بردار بیوی کی طرح زندگی گزار رہی تھی۔ گھر میں اناج آٹا دانہ سب کچھ ہوتا اور فصلوں کی فروخت سے بھی اچھا خاصا روپیہ پیسا آجاتا۔ ایک دن چوہدری احمد بخش عشاء کی نماز پڑھ کر سویا لیکن فجر کی نماز کے وقت نہ اُٹھ سکا اور روش راہوں کا مسافر بن کر اپنے رب کے حضور اپنے جنتی گھر میں پہنچ گیا۔ احمد بخش کی موت سے حویلی سونی ہو گئی۔ اسلم نے اپنے طور طریقے نہ بدلے اِسی طرح کئی کئی دن وہ گھر سے باہر رہتا۔ وقت کی رفتار کو جیسے پر لگ گئے۔ صادقہ کے ہاں جب پانچویں بیٹی پیدا ہوئی تو اسلم نے اُس پر تھپڑوں کی بارش کردی۔ صادقہ جو ہر طرح کے دکھ کو برداشت کرتی آرہی تھی۔اُس کے لیے جیسے دنیا اندھیر ہو گئی اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی کے ساتھ ایسا سلوک۔ ایک دن صادقہ پر یہ حقیت کھلی کہ اُس کا شوہر اوباش دوستوں کی محفلوں میں اتنا بگڑ چکا ہے کہ وہ شراب نوشی تو کیا ڈاکے مارتا پھر رہا ہے۔ پانچ بیٹیوں کے بعد اللہ پاک نے اُسے ایک چاند سا بیٹا عطا فرمایا ۔اسلم کی طرف سے کوئی خاص خوشی کا اظہار نہ دیکھ کر صادقہ کے دل کو شدید جھٹکا لگا اُس کا دل بیٹھ سا گیا۔ایک دن اُس نے اسلم کو کسی سے باتیں کرتے دیکھا تو صادقہ پر یہ حقیقت کھلی کہ اُس نے شہر میں ایک گانے والی خاتون سے شادی رچائی ہوئی ہے اور اُس میں سے اُسکا ایک تین سال کا بیٹا بھی تھا۔اسلم کا ایک دوست ایک دن گھر آیا تو اُس نے کہا کہ اسلم نے گاؤں کی زمین اور یہ حویلی اُسے بیچ دی ہے ۔ صادقہ نے اپنے والدین سے رابطہ کیا اسلم کو ڈھونڈا لیکن وہ نہ ملا۔جس نے حویلی اور زمین خریدی تھی وہ عدالت سے آرڈر لے کر پولیس کے ساتھ حویلی خالی کروانے آگیا۔صادقہ اپنی بیٹیوں کو لے کر شہر آگئی اور اُس کے والدین نے اُس کو ایک گھر لے کر دئے دیا اور اخراجات کے لیے بھی اُسے خرچہ دیتے رہے دن ، مہینے گزرتے گئے بچیاں کالج یونیورسٹی پہنچ گئی بیٹا بھی سولہ سال کا ہو گیا۔ ایک رات درواز زور سے کھٹکا دروازہ کھولا تو سامنے اسلم کھڑا تھا وہ فورا اندر آگیا بارہ سال کے طویل عرصے کے بعد اسلم کو جب اچانک سب نے دیکھا تو یقین نہ آیا۔ اسلم کہنے لگا کہ مجھے پناہ دو پولیس میرئے پیچھے لگی ہوئی ہے۔ بعد ازاں یہ انکشاف ہوا کہ اسلم اغوا برائے تاوان کے مقدمے میں مطلوب تھا۔اسلم گھر میں رہنے لگا۔ بچیاں جو اب جوان ہو چکی تھیں بڑی بیٹی کو یونی ورسٹی میں لیکچر شپ مل گئی تھی باقی بچیاں گھر میں ٹیوشن پڑھاتی اور کچھ صادقہ کے گھر والے سپورٹ کرتے تو اچھا بُرا ہو رہا تھا کہ اسلم نے آکر نظام بہتر کرنے کی بجائے اُن قسمت کے ماروں کے مسائل میں اضافہ کرنا شروع کردیا۔اُس نے کسی طرح گھر کی ملکیت کے کاغذات چوری کر لیے اور گھر فروخت کردیا۔ جس کے ہاتھ گھر فروخت کیا اُس نے گھر کے چکر لگانے شروع کر دئیے صادقہ جوان بیٹیوں کو لے کر کہاں جاتی۔صادقہ کا بیٹا شاہجہان جوان ہوچکا تھا لیکن پڑھ نہ سکا تھا ایک دن اسلم گھر پر ہی تھا کہ پولیس نے گھر پر چھاپہ مارا اور اسلم کو گرفتار کر لیا۔ بعد ازاں پتہ چلا کہ اسلم دوسرئے صوبے کے ایک سرکاری محکمے کے سیکرٹری کے بیٹے کو اغوا کرنے میں ملوث تھا پولیس گرفتار کرکے اسلم کو لے جاری تھی کہ مبینہ طور پر اسلم کے ساتھیوں نے اسلم کو چھڑانے کی کوشش کی اور اسلم مارا گیا۔جس نے صادقہ کا مکان اسلم سے خریدا تھا اُس کو بھی پولیس نے گرفتار کر لیا۔ یوں صادقہ کی سمجھ سے بالا تر تھا کہ وہ اپنے سہاگ کی موت پر آنسو بہائے یا گھر چھین جانے سے بچ جانے پر شکربجا لائے۔اسلم کی بیٹیا ں اور بیٹے کو باپ کی موت کا کوئی ملال نہ تھا بلکہ اُن کے دماغ پر سے ایک بوجھ ہمیشہ کے لیے اُتر چکا تھا۔مکان بچانے کی کاروائی میں عدالت میں ، میں نے اُس کا ساتھ دیا حتیٰ کہ صادقہ کے بھائیوں نے مجھے کہا کہ اِس کیس کو لڑنے سے پہلے سوچ لیں کہ آپ کی جان بھی جاسکتی ہے لیکن اللہ پاک کے فضل وکرم اور اپنی امی جان کی دُعاؤں سے مجھے ہے حکمِ اذان ۔۔۔۔