Thursday, 19 March 2015

سہاگ کی موت۔ ایک مقدمہ ایک کہانی اشرف عاصمی ایڈووکیٹ کی پیشہ ورانہ زندگی کا سچا واقعہ




 
it is a true story but names, places have been changed

سہاگ کی موت۔ ایک مقدمہ ایک کہانی

اشرف عاصمی ایڈووکیٹ کی پیشہ ورانہ زندگی کا سچا واقعہ

وہ پانچ بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی باپ بھی سرکاری محکمے میں سفید پوش نوکری پر مامور تھا۔ گھر میں رزق کی کمی نہ تھی۔اکلوتی بیٹی ہونے کی وجہ سے اپنی ماں باپ کی آنکھوں کا تارا اور اپنے بھا ئیوں کی گویا جان تھی۔ تمام بھائی پڑھ لکھ کر اچھی ملازمت پر مامور تھے جب اُسکی شادی کی بات ہوئی تو کئی رشتے آئے لیکن باپ نے اپنے دور کے ایک عزیز دوست ،احمد بخش کے بیٹے کے ساتھ صادقہ کی نسبت طے کر دی۔ احمد بخش کا علاقہ میں خوب رعب دبدبہ تھا اور لوگ اُس کی بہت عزت کرتے تھے ۔ اسلم اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔ ماں اِسکے بچپن میں ہی چل بسی تھی باپ اچھا خاصا زمیندار اور دل کا سخی تھا اِس لیے گاؤں میں کسی کو بھی کوئی پریشانی ہوتی تو اُسکا ازالہ چوہدری احمد بخش کی حویلی سے ہی ہوتا۔چوہدری احمد بخش خوب صدقہ خیرات کرتا ۔ لیکن اِس کے ساتھ ساتھ اسلم لاڈ پیار سے اکھڑ مزاج بنتا چلاگیا۔صادقہ جب بیاہ کر اسلم کی حویلی میں آئی تو اُس کی خوب خاطر مدارت ہوئی آخر چوہدری احمد بخش کے اکلوتے بیٹے کی وہ بیوی جو تھی۔ جب صادقہ کے ہاں پہلی بیٹی کی ولادت ہوئی تو چوہدری احمد بخش نے پورئے گاؤں میں خوب خیرات کی ۔اسلم اکثر اپنے دوستوں کے ساتھ گھومتا پھرتا رہتا لیکن خاندانی ادب و احترام کے باعث صادقہ نے کبھی اپنی زبان سے اُف تک نہ کی ۔ابھی صادقہ کی بیٹی کی عمر دو سال ہی تھی کہ اللہ پاک نے اِسے ایک اور بیٹی سے نوازا۔چوہدری احمد بخش ایک دین دار انسان تھا اُس کی خواہش تو تھی کہ اُس کے آنگن میں اُس کا وارث قدم رکھے لیکن وہ اللہ پاک کا شکر بجا لایا۔ لیکن اسلم کا رویہ کافی خراب تھا۔ صادقہ کو بہت دکھ ہوا کہ اسلم کی سوچ کتنی سطحی ہے۔ لیکن وہ فرماں بردار بیوی کی طرح زندگی گزار رہی تھی۔ گھر میں اناج آٹا دانہ سب کچھ ہوتا اور فصلوں کی فروخت سے بھی اچھا خاصا روپیہ پیسا آجاتا۔ ایک دن چوہدری احمد بخش عشاء کی نماز پڑھ کر سویا لیکن فجر کی نماز کے وقت نہ اُٹھ سکا اور روش راہوں کا مسافر بن کر اپنے رب کے حضور اپنے جنتی گھر میں پہنچ گیا۔ احمد بخش کی موت سے حویلی سونی ہو گئی۔ اسلم نے اپنے طور طریقے نہ بدلے اِسی طرح کئی کئی دن وہ گھر سے باہر رہتا۔ وقت کی رفتار کو جیسے پر لگ گئے۔ صادقہ کے ہاں جب پانچویں بیٹی پیدا ہوئی تو اسلم نے اُس پر تھپڑوں کی بارش کردی۔ صادقہ جو ہر طرح کے دکھ کو برداشت کرتی آرہی تھی۔اُس کے لیے جیسے دنیا اندھیر ہو گئی اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی کے ساتھ ایسا سلوک۔ ایک دن صادقہ پر یہ حقیت کھلی کہ اُس کا شوہر اوباش دوستوں کی محفلوں میں اتنا بگڑ چکا ہے کہ وہ شراب نوشی تو کیا ڈاکے مارتا پھر رہا ہے۔ پانچ بیٹیوں کے بعد اللہ پاک نے اُسے ایک چاند سا بیٹا عطا فرمایا ۔اسلم کی طرف سے کوئی خاص خوشی کا اظہار نہ دیکھ کر صادقہ کے دل کو شدید جھٹکا لگا اُس کا دل بیٹھ سا گیا۔ایک دن اُس نے اسلم کو کسی سے باتیں کرتے دیکھا تو صادقہ پر یہ حقیقت کھلی کہ اُس نے شہر میں ایک گانے والی خاتون سے شادی رچائی ہوئی ہے اور اُس میں سے اُسکا ایک تین سال کا بیٹا بھی تھا۔اسلم کا ایک دوست ایک دن گھر آیا تو اُس نے کہا کہ اسلم نے گاؤں کی زمین اور یہ حویلی اُسے بیچ دی ہے ۔ صادقہ نے اپنے والدین سے رابطہ کیا اسلم کو ڈھونڈا لیکن وہ نہ ملا۔جس نے حویلی اور زمین خریدی تھی وہ عدالت سے آرڈر لے کر پولیس کے ساتھ حویلی خالی کروانے آگیا۔صادقہ اپنی بیٹیوں کو لے کر شہر آگئی اور اُس کے والدین نے اُس کو ایک گھر لے کر دئے دیا اور اخراجات کے لیے بھی اُسے خرچہ دیتے رہے دن ، مہینے گزرتے گئے بچیاں کالج یونیورسٹی پہنچ گئی بیٹا بھی سولہ سال کا ہو گیا۔ ایک رات درواز زور سے کھٹکا دروازہ کھولا تو سامنے اسلم کھڑا تھا وہ فورا اندر آگیا بارہ سال کے طویل عرصے کے بعد اسلم کو جب اچانک سب نے دیکھا تو یقین نہ آیا۔ اسلم کہنے لگا کہ مجھے پناہ دو پولیس میرئے پیچھے لگی ہوئی ہے۔ بعد ازاں یہ انکشاف ہوا کہ اسلم اغوا برائے تاوان کے مقدمے میں مطلوب تھا۔اسلم گھر میں رہنے لگا۔ بچیاں جو اب جوان ہو چکی تھیں بڑی بیٹی کو یونی ورسٹی میں لیکچر شپ مل گئی تھی باقی بچیاں گھر میں ٹیوشن پڑھاتی اور کچھ صادقہ کے گھر والے سپورٹ کرتے تو اچھا بُرا ہو رہا تھا کہ اسلم نے آکر نظام بہتر کرنے کی بجائے اُن قسمت کے ماروں کے مسائل میں اضافہ کرنا شروع کردیا۔اُس نے کسی طرح گھر کی ملکیت کے کاغذات چوری کر لیے اور گھر فروخت کردیا۔ جس کے ہاتھ گھر فروخت کیا اُس نے گھر کے چکر لگانے شروع کر دئیے صادقہ جوان بیٹیوں کو لے کر کہاں جاتی۔صادقہ کا بیٹا شاہجہان جوان ہوچکا تھا لیکن پڑھ نہ سکا تھا ایک دن اسلم گھر پر ہی تھا کہ پولیس نے گھر پر چھاپہ مارا اور اسلم کو گرفتار کر لیا۔ بعد ازاں پتہ چلا کہ اسلم دوسرئے صوبے کے ایک سرکاری محکمے کے سیکرٹری کے بیٹے کو اغوا کرنے میں ملوث تھا پولیس گرفتار کرکے اسلم کو لے جاری تھی کہ مبینہ طور پر اسلم کے ساتھیوں نے اسلم کو چھڑانے کی کوشش کی اور اسلم مارا گیا۔جس نے صادقہ کا مکان اسلم سے خریدا تھا اُس کو بھی پولیس نے گرفتار کر لیا۔ یوں صادقہ کی سمجھ سے بالا تر تھا کہ وہ اپنے سہاگ کی موت پر آنسو بہائے یا گھر چھین جانے سے بچ جانے پر شکربجا لائے۔اسلم کی بیٹیا ں اور بیٹے کو باپ کی موت کا کوئی ملال نہ تھا بلکہ اُن کے دماغ پر سے ایک بوجھ ہمیشہ کے لیے اُتر چکا تھا۔مکان بچانے کی کاروائی میں عدالت میں ، میں نے اُس کا ساتھ دیا حتیٰ کہ صادقہ کے بھائیوں نے مجھے کہا کہ اِس کیس کو لڑنے سے پہلے سوچ لیں کہ آپ کی جان بھی جاسکتی ہے لیکن اللہ پاک کے فضل وکرم اور اپنی امی جان کی دُعاؤں سے مجھے ہے حکمِ اذان ۔۔۔۔

1 comment:

  1. کافی عرصے کوئی مذیدکہانی سامنے نہیں آئی یا کہانیوں نے جنم لینا بند کردیا ہے یا کہانی ہی ختم ہوگئی یا پھرمقدمے لینا بند کردیا ہے

    ReplyDelete