Sunday, 5 April 2015

خواب بنے قاتل۔ ایک مقدمہ ایک کہانی امتل کے اپنے خواب اُس کے قاتل۔ اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کی پیشہ ورانہ زندگی کا سچا واقعہ اشرف عاصمی کے ہی قلم سے.IT IS ATRUE STORY OF THE PROFESSIONAL LIFE OF ADVOCATE ASHRAF ASMI, HUMAN RIGHTS ACTIVIST

  TRUE STORY WRITTEN BY ME PUBLISHED IN THE FAMILY MAGIZNE OF NAWI WAQAT GROUP 19TH APRIL 2015.

 

 

 

 

خواب بنے قاتل۔ ایک مقدمہ ایک کہانی

امتل کے اپنے خواب اُس کے قاتل۔ اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کی پیشہ ورانہ زندگی کا سچا واقعہ اشرف عاصمی کے ہی قلم سے

وہ اپنی پہلی ہی ملاقات میں محبت کے نام پر خود کوبرباد کر بیٹھی تھی۔اُس کی شرجیل کے ساتھ ملاقات ایک شادی میں ہوئی تھی اور وہ اُسے اپنے خوابوں کا شھزادہ سمجھ کر اُس کے خیالوں میں ایسی مگن ہوئی کہ پتہ ہی نہ چل سکا کہ اُس کی راہیں اُسے کس جانب لے گئی۔وہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی بیٹی اور دو بھائیوں کی لاڈلی بہن تھی۔جب اُس نے اُسے فون کیا کہ تم لاہور آجاؤ اُُس نے اپنی ماں کو راضی کیا اور لاہور آکر ایک فیکٹری میں ملازمت کرنے لگی اُس نے اُسے کہا تھا کہ وہ ایک بڑے ہسپتال میں ڈاکٹر ہے۔ وہ اُس کی چاہت میں بُری طرح پاگل ہوچکی تھی اُس نے شرجیل کے کہنے پر اُس سے نکاح کر لیا گھر والوں کو پتہ نہ چلنے دیا اور اکثر اپنے ہاسٹل کی بجائے اُس کے ساتھ اُس کے فلیٹ میں رہتی۔شرجیل نے اِس طرح کا اُس پر محبت کا جادو کر دیا تھا کہ وہ خود کو دنیا کی سب سے خوش قسمت عورت خیال کرنے لگی۔ڈیرھ سال شادی کو گزر گیا اب شرجیل کا رویہ بدلنے لگا اور جہاں روزانہ و ہ امتل کو لینے ہاسٹل پہنچ جاتا تھا وہ اب ایک ہفتے بعد آتا۔ کہتا کہ وہ مصروف ہے۔ ایک دن امتل کو ایک کال موصول ہوئی فون کرنے والے نے بس اتنا کہا کہ میں ایک ہمدر انسان ہوں شرجیل جو تمھارا شوہر ہے بہت بڑا دھوکے باز ہے لڑکیوں کی زندگیاں برباد کرتا ہے۔یہ ڈاکٹر نہیں بلکہ کسی فارما کمپنی کے مارکیٹنگ کے شعبے سے وابستہ ہے اور یہ اب تک اسی طرح کی کئی شادیاں رچا چکا ہے۔ امتل کو یہ سب کچھ ڈروانے خواب کی مانند لگا ۔ شرجیل جب اُسے لینے آیا تو اُس نے اُسے کہا کہ تم ڈیڑھ سال سے کہہ رہے ہو کہ تمھیں مناسب وقت میں اپنے والدین سے ملواؤں گا لیکن تم نے ایسا کیوں نہیں کیا۔ شرجیل نے اِدھر اُدھر کی باتیں کرنا شروع کر دیں۔ امتل سمجھ گئی کہ شرجیل نے محبت کے جال میں پھنسا کر اُسے کہیں کا نہیں چھوڑا۔ آہستہ آہستہ شرجیل نے امتل کے ہاسٹل آنا بہت کم کردیا جب بھی امتل نے اپنے لیے اولاد کی خواہش کاا ظہار کیا تو شرجیل ٹال جاتا ابھی وقت نہیں آیا تھوڑا سا صبر کر لو۔ایک دن امتل نے اُسے فون کیا اور کہا کہ وہ اُسے طلاق دئے دئے لیکن شرجیل بات گول کر گیا اور روایتی چکنی چپڑی باتیں کرنے لگا لیکن امتل اب خوابوں کی دنیا سے لوٹ آئی تھی اُسے احساس ہو چکا تھا کہ کس طرح محبت کے جال میں پھانس کر اُسے برباد کیا گیا۔ میں اپنے چمبر میں بیٹھا کیس تیار کر ہا تھا کہ مجھے فون موصول ہوا تعارف کروانے والی نے کہا کہ مجھے کسی فلاحی ادارئے سے آپکا نمبر ملا ہے میں آپ سے ملنا چاہتی ہوں میں نے ملاقات کا وقت طے کیا۔ لیکن وہ ملاقات کے لیے نہ آسکی اُس کا فون آگیا کہ وہ دو دن بعد آئے گی۔ایک دن وہ بن بتلائے میرئے لاء چیمبر ہائی کورٹ پہنچ گئی میں چیمبر میں نہ تھا۔ مجھے اُس کا فون آیا کہ وکیل صاحب میں امتل بات کر رہی ہوں اور آپ کے چیمبر میں بیٹھی ہوں۔میں نے اپنے کام نبٹائے اور چیمبر آگیا۔ ایک قبول صورت لڑکی پینٹ شرٹ پہنے بیٹھی ہوئی ملی اور تعارف کروانے پر وہی امتل تھی۔اُس نے مجھے اپنی ساری رام کہانی سنائی۔ میں نے اُس سے کہا کہ تم اب کیا چاہتی ہو۔ اُس نے کہا وکیل صاحب میں اُس سے جان چھڑانا چاہتی ہوں۔ میرئے گھر والے دوسرئے ضلع میں رہتے ہیں ۔ میں نے اِس دھوکے باز کے لیے اپنے والدین بلکہ ساری دنیا کو دھوکہ دیا لیکن خود سب سے بڑا دھوکہ میرئے ساتھ ہو گیا۔امتل مجھے پھر کسی دن آنے کا کہہ کر چلی گئی۔ چند ماہ کے بعد مجھے ایک فون آیا کہ میں امتل کا خاوند ڈاکٹر شرجیل بول رہا ہوں اُسے سمجھائیں کہ وہ مجھ سے طلاق نہ لے۔ میں نے کہا اچھا میں دیکھتا ہوں۔ ایک دن امتل کا فون پھر آگیا کہ وکیل صاحب میں آپ سے ملنے ابھی آرہی ہوں ۔ میں کورٹ میں تھا۔لیکن امتل نہ آئی۔ دو گھنٹے بعد مجھے اُس کے فون سے ایک کا ل موصول ہوئی کہ آپ امتل کے کیا لگتے ہیں میں نے کہا کہ میں ایک وکیل ہوں اور وہ مجھ سے قانونی معاملات میں رہنمائی کے لیے ایک دو مرتبہ آئی تھی اور آج بھی اُس نے آنا تھا۔فون پر بولنے والے نے مجھے بتایا کہ امتل رکشے میں سوار تھی کہ رکشے والے کی ٹکر ایک ٹرک سے ہو گئی اور امتل کی موت موقع پر ہی ہو گئی۔ کیونکہ آخری بار اُس نے آپ کو کال کی تھی اِس لیے آاپ کو ہی فون کیا گیا ہے۔یہ کہہ کر فون بند ہو گیا۔اور امتل میرئے لیے بہت سے سوال چھوڑ گئی کہ وہ لڑکیاں جو ماں باپ کو دھوکہ دے کر عشق کی خاطر در بدر کی ٹھوکریں کھاتی ہیں اُن کی عقل کو نہ جانے کیا ہوگیا ہوتا ہے۔اپنے ماں باپ کو جیتے جی مار دیتی ہیں اِس طرح کی لڑکیاں۔

Thursday, 2 April 2015

گھر کو آگ گھر کے چراغ سے۔ ایک مقدمہ ایک کہانی میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ کی پیشہ ورانہ زندگی کا سچا واقعہ

 

 

 

 

گھر کو آگ گھر کے چراغ سے۔ ایک مقدمہ ایک کہانی

میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ کی پیشہ ورانہ زندگی کا سچا واقعہ

مجھے جیل سے ایک خط مو صول ہوا جس کے مطابق ایک قتل کے قیدی نے مجھ سے قانونی امداد طلب کی تھی۔میں ایک دن جیل پہنچ گیا اور اُس شخص جسکا نام نظام تھا سے ملا۔ وہ میرا منتظر تھا وہ بغیر رکے بولنے لگ گیا اور اُس نے اپنی روداد چند منٹوں میں ہی سُنا ڈالی۔مجھے افسوس تھا کہ ایک بوڑھا شخص جس کے بال مکمل سفید تھے اور دیکھنے میں وہ کافی بھلا مانس لگتا تھا اُس کی کہانی بہت ہی دُکھ بھری تھی۔ اُس کا کہنا تھا کہ وہ سنگِ مرمر لگانے کا ماہر ہے اور اُس نے مکہ و مدینہ کی پاک فضاؤں میں بھی یہ کام کیا ہے اور اُس نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ عرب ریاستوں میں ہی گزاراہ اُس کے مطابق اُس کی شادی خاندان کی ایک لڑکی سے ہوئی اور وہ شادی کے بعد بھی حصول روزگار کے لیے بیرون ملک ہی محنت مزدوری میں لگا رہا۔ دو سال بعد پاکستان آتا یوں اُس نے اپنا علحیدہ گھر بنالیا تھا اور ب اُس کے ہاں تین بیٹیا ں اور ایک بیٹا پیداہوئے۔ وہ اپنی کہانی سنا رہا تھا کہ اچانک رُکا اور کہنے لگا وکیل صاحب کاش پاکستان کے حکمرانوں نے اِس دھرتی ماں میں ہی ہمارئے گزر بسر کے حالات پیدا کیے ہوتے اور نہ میں باہر رہتا نہ میرا گھر برباد ہوتا ۔اُس کی آنکھوں میں اب آنسو بہہ رہے تھے۔ایک انتہائی بوڑھے شخص کو بلکتے روتے ہوئے دیکھ کر میرا کلیجہ مُنہ کو آرہا تھا۔ پھر وہ گویا ہوا وکیل صاحب میری بیوی جو کہ میری عدم موجودگی میں بد چلنی کا شکار ہو گئی تھی اُس نے میری دو بیٹیوں کو بھی اِسی کام پر لگا دیا اور اب وہ باقاعدہ ایک جسم فرشی کا اڈا چلانے لگ گئی۔ میرابیٹا بھی اپنی ماں کا ہی ہمنوا بن گیا۔میں آج سے ڈیرھ سال پہلے جب دیارِ غیر سے گھر آیا تو مجھے پر یہ حقیقت منکشف ہوئی کہ میری بیوی اور بچیاں جسم فروشی کے مکروہ دھندے میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ میں نے جب اپنی بیوی کو کہا کہ یہ کیا ہے تو اُس نے مجھے گھر سے نکلوادیا اور علاقے کے ایم پی اے کے غنڈوں نے مجھ بوڑھے کو مارا اور میری بیوی نے عدالت سے خلہ یعنی طلاق بھی لے لی۔میں نے اُس کی منت سماجت کی کہ میری بیٹیاں مجھے واپس کردو میں یہاں سے دور چلا جاؤں گا۔ لیکن وہ نہ مانی۔ اب وکیل صاحب میں کیا کرتا۔ میری ساری زندگی کی محنتوں کا ثمر یہ تھا کہ گھر تباہ، اولاد تباہ اور میری بیوی نے جو گُل کھلائے تھے خدا کی پناہ۔ وکیل صاحب علاقے کا تھانیدار اور ایم پی اے اُس کی سرپرستی کرتے تھے۔ جب مجھے اُس نے دھتکار دیا تو میرئے پاس نہ تو سر چھپانے کی جگہ تھی اور نہ ہی بچے میرئے ساتھ تھے۔اپنے رشتے داروں سے مدد کی درخواست کی مجھ نحیف بوڑھے کی کسی نے مدد نہ کی۔ بس وکیل صاحب میرئے آنکھوں میں لہو اُتر آیا۔میری زندگی کا بس ایک مشن بن گیا کہ میں کسی طرح اُس بے وفا اور زمین پر گناہوں کے بوجھ کو صفحہِ ہستی سے مٹادوں۔ اِس مقصد کے لیے میں نے ایک بہت تیز دھار آلہ تیار کروایا اور اپنی میں نے شکل وجہ تبدیل کی اور بھیس بدل کر اپنے ہی گھر میں جو کہ اب فحاشی کا اڈا بن چکا تھا پہنچ گیا میں نے وہاں موجود چوکیدار سے اپنی سابقہ بیوی سے ملنے کا کہا اُس نے سمجھا کہ کوئی موٹا تازہ گاہک ہے وہ مجھے اُس کے پاس لے گیا میں اُس کے پاس اُس کے کمرئے میں بیٹھ گیا اور وہ مجھ سے میرا حال پوچھنے لگی اسی اثناء میں میں نے موقع پا کر اُس حرافہ کو قتل کردیا جب تک شور سن کر لوگ آتے وہ جہنم رسید ہوچکی تھی میری زندگی کا مشن مکمل ہوچکا تھا پولیس آئی مجھے گرفتار کیا میں نے اقرارِ جرم کر لیا میرا کوئی وکیل بھی نہ تھا سرکار نے مجھے وکیل فراہم کیا۔ مجھے سزائے موت کی سنا دی گئی ہے۔ساری کہانی سُننے کے بعد میری دل بھر آیا تھا میرا اپنا جسم ٹھنڈا ہو چکا تھا۔میں نے اُس سے پوچھا کہ نظام اب تم کیا چاہتے ہو؟۔ وہ کہنے لگا وکیل صاحب مجھے اب زندہ نہیں رہنالیکن میں چاہتا ہوں کہ آپ میرا کیس لڑیں تاکہ دنیا کے سامنے حقائق لائے جاسکیں کہ جو لوگ دیارِ غیر میں اپنے پیاروں کے لیے دھکے کھاتے ہیں اُن پیاروں کی جانب سے بے وفائی کسی صورت پھر برداشت نہیں ہوتی ۔ میرئے لیے کتنا صدمہ ہے کہ میری بیٹیاں اور بیوی فحاشی کے اڈئے کو چلانے لگیں اور میرا بیٹا بھی اُسی رنگ میں رنگ گیا ۔ وکیل صاحب لوگوں کو بتائیں کہ اپنے ملک میں سوکھی روٹی کھالیں باہر مت جائیں۔یا پھر شادی کے بعد نہ جائیں یا اپنی فیملی کو ساتھ لے کر جائیں۔میں نے اُس سے وکالت نامے پر دستخط کروائے اور جیل حکام سے مل کر واپس آگیا اور سوچ رہا تھاکہ لوگ روپے پیسے کے لیے اپنا گھر بار چھوڑ کر سات سمندر پار چلے جاتے ہیں اور پیچھے سے اُن کے بیوی بچے اور ڈگر پر چل نکلتے ہیں اور ایسی راہ پر چل پڑتے ہیں جہاں سے واپسی ممکن نہیں رہتی ۔